۲ٌ
ساولمووی
رسہت
نام: سم سے سس سس ي_جہہہسسسشس
زا ُول: ۴ئ 118181"
مرک زی من 7 0< ...72 2
رکو۶ مسیسمسسممس ری ا مممعتےتےےمم-مےعےجووص+ٔ”ٗىمممدسسسستد
ک٢ 28290 ,000ھ"
رکو ٣۶ + ب6ں 0 ۶
رک ۶ سس۳۳ُ۷۳َ 1 یئ ویو ییئبیئ
رکو۵۶ ۷٣۷٢1 َ۶؟؟بتوو۶ىتی۷"۷۳ٰر
نام:
7صح۔ ط۶ 7
آیت مب ر٣۱ کے نقھرے و یہ الژَحْدُ بجعَنیہ ة الْمَلَِکَذُ من خِیْقَتِد کے افظالّخُ کال
سور کانام قرار دیاگھیاے۔ اس نا مکا ریہ مطلب میں ےک اس سور ۃ یس باو لک ی مرج کے مسنلے سے بحت
کیگئی ہے بللہ یہ صصرف علامت کے طور یر مہ ظاہ رک ا ےکہ یہ دو سور سے جس میں لفظ الرعدآیاےءیا
نس میں اع رکاذ آیاے۔
زا ڑُول:
رو ا اور رکو ع۹ کے مضامیان شہادت دن بی یکم یہ سور بھی اسی دو رکی سے جس میں سور ول وس ء ہودء
او رگ ۸ اف نازل ہوک ہیں مین زان ہقام مل کا خر کی دور۔ اند از بیانع سے صاف ظاہ ر ہو ربا ےک تی قل
ای علیہ وس۱ مکو الا مکی دگوت دنن ہوۓ ایک رت درد ھی ےہ مالین آ پکونرک دۓ اور
آپ کے مف نکوناکا مر نے کے لیے ط رب طر نکی چالیش لے ر جج ہیںء مو مین بار پا تمنائی ںک ر سے
ہیں ک کاٹ شکوکی مو دکھاکر بی ان لوگو ںکو راوراست پر لایاجاےء اور الد تی مسلمانو یکو مچھار پاے
ایمانی کی راد دکھا کاب طر توارے ان را٠ یں سے اور گر دشمنان 1 0ئ0 چاریدے
فذیہ اک بات کیل ےک جس ے ت گر ا أنٹھو پچ رآیت ا ے بہ بھی معلوم ہو ماس ےکہ با با رکا رکی
نہٹ دع رہ یکا السا مظاہرہ ہو کے جس کے بعد کہن پالقل با معلوم ہو ا ےکہ اگ قروں سے مر دے
بھی أش ھک ہآ جائیں فو لوگ نہ ما نیں گے بللہ اس وا ت ےکی بھ یکوئی نہ کوگی او لک ڈائیس کے ان سب
اوں سے مو یلمان ہنا ےکہ یہ سود ہمہ کے آخ کی دور میس نازل ہو کی ہ وی
مہ زی ممون:
”سور کا مد عاپبیلے بی آیت میں یی ںکر دیاکھیاےء ہنی بی ہک جو بج صلی اللہ علیہ وسعلم جی کرس ہیں
وی جن ےء گر ىہ لوگو ںکی شی ےکہ دو اسے نی مات سماری تق رجہ اسی ع رکمزی مضمون سک ےگمرو
گھومتی ے۔ اس سالے میں ہار بار نلف طربقوں ے وحیدء معاد اور ر سال تک انیت اب تک یگئی ےء
الن بر ایمان لانے کے اخلاقی وروحاٹی اد ھمائے گے یہ ال نکو نہ مانۓ کے قتصازات تائے گے ٹیںء
اور ىہ ذ من تش یک گیا ےک رکف رض اص ر ایک حافت اور جباات ہے پچھرچ لکیہ اس سمارے پیا نکا مقصر
نل دا نمو ںک ومک نکر نادی نیس دلو ںکوا یما نکی طر ف یہنا بھی ہے اس لیے نرے می اتتد ال
سےکام نیس ل گیا ہے بلنہ ایک ایک دیل اود ایک ائیک شہاد تکو بی کر نے کے بع رھ کر طر طرح
سے توف تہیب تر غیب اور نان" مین 7 اگئی نے مجاکہ نادان لو و لی 2 پایرہٹ رص ری ہے
از آجائیں۔
دوراان تق یر میں مہ مہ مخالشان کے اعتراضا تکا کر کے اقی راع کے جو ابات د لے گے میں ء اور ان
شبہا تکور قکیاکرڑے جو مجر صلی اللد علیہ و سل مکی دعوت کے متحعلق لوگوں کے دلوں میں پائۓ جاتے
مے انا نکی رف سے ڈانے جات تے۔ امن کے مان ال ایم نک و بھی جج کیج سک لویل اور
مخت جدوچہ کی وجہ سے لے جارے تے اور بے ہنی کے ساتھ شی اود او کے غنظر سے , نسلی دب یگئی
کہے۔
ے2
الک' جَِكَ ایك انب ٴدَالَرِیَا أْرل الَيْكَ مِن دَبِكَ الَث لین اَترَالنَاسِ ل
لوت ر8 أَلله الد دَفَع الشّدوٰتِ بِکَیُر عَمَيٍ تَوَڈکَھَا کم امُکوٰی عَل الْعرّمِ و عََر
[]+۶۳۷۶۵ رن لِأَجَل مُئی یدیز الْاریِفَضِل الایتِ لَعَلَحَُم بيقاء کو
تُْقَنُوْنَ 2 ەَمُوَالَدِیْ تقفش وت سيا رس تائ نت“ ةَ مِنْ کی القَعَرتِ جَعَل
٠" 2 92 ١ئ ذٰلِكَلَيتِلِقو َِمَفَکونَ ٥ي وَفالاَزْضِي
>ے 9 و
بوزٹ هٌ جن من اَخناب ا زَزء ةَ فَِیْلُ صِنوَانٌ ة عَیْرُ صِنوَانِ ُ 7 تا
7 قف روس ۶ ریے۔ م۔ ١ےہ 2 ۲ ود >َٔ
واج دَتُقَظِلبَمْقَهَامَل تم و الال ان فذٰلِكَلَاتِژِقَوْم يَعْقِلوْنَ:ع)وَان تَعْجَبُ
کے و کوٹھی۔,> 6 یرے۔ ا رر ےت ےو 7ب ۹ و وی و
و ای ہر ےت وت وارکة
الْاَفْللُ قّاَعْتَاةۂ
2 : کے ے6 ٹر ۔١ش؟ ووگے ١6ک
قَ اتد قَرْعَلتمِن قَبْلِالَنْتُ ََكَ لَنْوٌ مَغْفَةَ؟ لِدشَاسَِ ظليعم وَان
زََكَ لَمَيِيْنُ الْعقا پ ٥< وَیَغُوْل الَدِیْنَكَهْ ُذالَؤْلَأنْرلَ عَلَيْوايَڈِِن رد 02-2١ ۶
شو 2 7 نَ ۶ے ھ2
'وَأولَيكَاَطُطبالٹارِ ف-ِْيْھَا حلِدُوْنَ <2 وَيَمْتَعجَلوَْكَ بِاشَيِمَة
١ رکو
کے نام سے جو ر جن ور تیم ے۔
ناپ بے ال یکی آیات ہیںء اور ج مھ تہارے رٹکیا مرف سے تم پر ناز لک یاگیاس وہ ین
جن سے گر تہارک قوم کے ہہ کش لوگ مان نیس رے ہیں“
وہ ایل تی سے تس نے آسمانو ںکو اپیے سہاروں کے ایر ماخ مکیاج ت مکو نظ رآتے ہوں 2ء پھر وہ اپنے تخت
سلطحت پر لوہ فر ما ہو اثآء اور انس نے آ فراب دنا تا بپکو ایک نقانو نکاپابند بنایا۔ چا سارے نظا مک ہر
یز ایک وشت مرک کے لیے ول رہی سے اور ادا اس سار ےکام 7 تعجر فرمارہاے۔ وہنشایال
کھو لبھو لکر بیا نکر تا ہہ شابی دک تم اپنے رٹ کی علا قا تا شی نکر وس
اواروئی سے جس نے بے ز۲ن پچاا ری ےء ا مل پہاڑوں کےکھون گاٹڑ ر کے ہیں اود ددیا بہادے
ہیں۔ سی نے ہر طر کے بچلوں کے جوڑے پیر اکیے ہیں اور دای دانع پر رات طار کرجا ے۔ ڈان
سارکی چیزوں یں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو نغور ور سےکام لیے ہیں۔
اور یھو ءز بین ٹیس الگ اک لے پائۓ جات ہیں جو ایک دوسرے سے مل واج ہیں۔ اور کے با
یں ہکھاں ہیں کھنور کے درخت ہیں جن می چلہآکہرے ہیں ادرھدوہرے۔ اس بکو ایک ہی پائی
سیر ا بکر ما ےمم مزے میں ہ مکس کو ہت بنا دینے ہیں او رس یک کت ان سب چچیزوں میس بہت کیا
نشانیاں ہیں ان لوگوں کے نے جو نل سےکام لیت ہیں 11
اب اگ ر ہیں تق بک نام ق تب کے تقائل لوگو ںکابہ قول ےک ہ” جب چم ع کمن ہہو جئکیں کے ھکیا
بھم نے یسروں سے پبداہیے جائیں گے ؟“ یہ دولوگک ہیں جنپوں نے اپنے رت ےگف کیا ے۔ لے وہ
لوگ ہیں جج نک یگ دفوں میں طوق پڑے ہو ہیں۔ گر ہی ہیں اور جم یس پمیشہ ر ہیں گے۔
یلوگ ببھلاٹی سے پیل ای کے لیے جللدی مار ہے ہیں یلما امہ ان سے پیل پڑجو لوگ اس روش پر
کے ہیں ان پر خد اکے عفر ا بکی ہہ عہرت ناک تال سگزرچگی ہیں۔ حقیقت ىہ ےک تارب لوگو کی
زیادتیوں کے پاوجودان کے سا تج مم و خی سےکام لیے اور یہ بھی حقیقت ےک تیر ارب سخت مزا
ا ۓوالاے۔
بی لوگ ججنپول نے تہارک بات مان سے افکا کرد نے سکتے ہیں ان تحفس تی ج٤ رک طرف
ےکوکی نشالی اایوں نہ آتزی 6ق“ ۔ تو کر دارک دن دانے ہو ء اور ہر قوم کے لیے ایک ر نما
ے۔ 5لم
سورڈالرعد خاشیہ تمبر: 1ھ
یہ اش سورہکی تمبیرے نجس میں مقصو ولا مکوچند افطگوں میں بیا نکر دیاگیاے۔ رو تن نسی صلی الہ
علیہ و سل مکی طرف ہے اور آ پکو خطا بکرتے ہوے الد تھالی فرماا ےکلہ اے نمی صلی ال علیہ وم
تمہاری قوم کے کش لوک اس لعل مکو قو لکرنے سے اڑکا کر رے ہیں ہر واتقعہ یہ ےکم اسے جم نے تھم
پر ناز لکیاسے اور سی جن سے خو او لوک سے مائیں بیانہ مائیں۔ اس محخظ رىسی تمبیر کے بعد اصل تقریر
شرو ہو اتی سے جس میں مکری نکویہ چان ےک یکو شن لک یکئی ےک می لعل مکیوں عق ہے اود اس کے
ارے میں ال نکاردی ہملس قدر خالے۔ اس تقری ہکو جچنہ کے لے ابد ای سے مہ بی نر ہناضروری
سےکہ نی صکی اللہ علیہ و لم اس وفت جس چچ کی طرف لوگو ںکو دعوت دے ر سے تے وہ تین بذیادی
انوں پر مشخلتھی۔ ایک کہ حدائی ار کی و ری ا کی سے اس لیے اس کے سو اکوکی بل دی و عباد تکا
سفن نیس ہے دوسرے بیہکیہ انس ذن گی کے بعد ایک دوس ری ذزندگی سے نجس میس ت مکو اپنے اخ کی
خی یکر مکی رگ مین ال ارول مجن وزج ین لک اونزن یق رف ےتغین
لہ خد اکی رف سے یی لک دباہوں۔ سی تین بافیں بہیں جن جہیں مانۓ سے لوگ اکا رر ر سے ت ےہ کہ یکو
اش تقریر میں ہار بار طرے طریے سے مچھان ےک یکو ش لک یکئی ے اور اٹچی سے متعلق لوگوں کے
شبات واعتراضا تکور عکیاکیاے۔
سورۃائرعد حاشیہ نمبر: 2ھ
الفاظا دج رآسانو ںکوغی مس وس اور خیرم کی سہارون پر قاخمکیا۔ بظاہ رکوکی یز فضاے بسوبط بیس اڑسی یس
ہے جو ان بے عدوصماب ارام لگ یکو تماے ہو ہو گلزابیک یر نحسوس طاقت انی سے جو ہر ای ککو
ان کے متقامم و مرار پر رو کے ہوۓ اور ان شنیم الخان اجسا مکو زین یہ یا ایک دوسرے پ گر نے میں
رو
سور ڈالرعذ حاشیہ تمبر: 3ھ
ا سکی تق رض کے لیے ملاحظہ ہو سورد اعراف حاشیہ بر ا۳ ۔ خقمرا بیہاں انا اشار ہکان کہ عرشش(منی
ساط تکا نات کے م کز)پرالل و یکی جاوفا یکو کہ کہ ق رن ئ جس خر سے با نکیاگیاہے وہ
یہ سےکہ الد نے ال کا تا تکو صرف پید ااکی می ںکر داے بللہ وہ آپ بی اس سلطحت پر فر مان وا کم رہ
ہے۔ یہ جہان ہست و او دکوٹی خود ہن دجن والا مار خانہ یں ہے جب اکہ بہت سے جابل خیا لکرتے ہیں ء
ادرنہ لف خحد ال لکی آما جگادےء حبیہاکہ بہت سے دوسرے چائل بے ڈیشے کیں ہ بلکہ مہ ایک باتقاعدہ
نظام سے ے ا کا پر اکر نے والا ود چلارپاے۔
سور ڈالرعد حاشیہ تمبر: 4۹4ھ
یہاں مہ ام مم ظا خاطرر ہنا اہ ےہک خخاطب دہ قوم ہے جو ال کی بت یکی منھر نہ شی نہ اس کے خالقی بہونے
کی مر تھی ء اورنہ ہ گان رمحتقی ت یکہ یہ ماد ےکام جھ یوہاں بیالن کے جار سے یں ء ان کے سی اور
کے ہیں۔ اس لے ھا خوداس بات پر ول لان ےکی ضرورت نہ ھ یگ کہ دا تی ال یا نے آسمانو ںکو
ظا مکاسہے اود ای نے سور اود چان کو الیک ضا لٹ ےکا پابند بنایاہے۔ بللمہ ان داقا تکوء جنہشیں مخاطب خود
یمان تھے ایک دوس رک بات پر ول قرار دیاگھیاےء اود ددمیہ ےکلہ اد کے سو اکوکی دو سرا اس نظام
کائنات می صاحب اقتزار نیں کچ مجود قرار دلے جا ےکا تن ہو۔ رپا موا کہ جو شنص سرے
سے ال کی سیکا اور اس کے خخالق و مد بر ہونے بی کا اتل نہ ہو اکے ما لے میں بہ امت لال کیسے مفیر
ہوسکنا سے ؟ ا سکاجو اب ہہ ےکہ اللہ تی شش کین کے ما بے بیس پوحی ہکو اہ کر نے کے بے جھ
دلا نل دیتاے ودی د لال ملاعدہ کے مفاٹے بیس وجود بای کے اشبات کے لیے مچھ یی ہیں ۔ پوحیی ہکاسارا
اق لال اس ادیپ قائ سےکہ زین سے لن ےکک سانو ںکک سمارک یئات ایک عمل نظام سے اور ىہ را
ظام ایک زبر دست تالون کے تحت تل رہاسے جس میس ہر طرف ایک ہع مگیب اقتق اد ء ایک بے عیب
حکمت, اور بے خطاعم کے آنخار نظ رت ہیں۔ یہ آنجار جس ط رح اس بات پہ دلالم تکرت ہی کہ اس
ام کے بہت سے فرمافروا یں ہیںء ای رح اس بات پر بھی دلالم تکرتے ہیں کہ اس ظا مکا کیک
فان وارے۔ نش مک تقصور ایک ناشم سے بغی رہ قانو نک تقصور ایک حم ران کے ایر حکس کا تصمور یک لیم
کے خی عل مک تصور یک الم کے ایر اور سب سے با ھکر ب کہ خلت یکا نمور ایک خالقی سے اغیر صرف
وی شف سک سکت ا جوہٹ دھرم ہو یائچلروئۂج٘ سکی خقل ماریکئی ہو۔
سور ڈالرعد حاشيتمبر: 5ھ
یی بہ ام صرف ای اص کی شہادت کیل دے دبا ےکلہ ایک ہع گر اق اد الس پر فرمانرواسے اور الیک
زیر وست حکمت اس می کا مک دبیٰے ء بلکنہ اس کے تام اجمزا اور ان می سکا مکرنے والی سماریی تو ہیں اس
بات پر جج یگواہو ہی کہ اس نظا مک یکو کی یز غیر فالی میں ہے۔ ہرز کے لیے ایک وفت مقر سے جس کے
انا مک وہ جلتی ے اور جب ا کا وقت آن پوراہو جاے او مٹ عائی ہے۔ بی یقت جس ط رع اس
ام کے ایک یک جزء کے معالے میس ج ہے ای رح اس لپارے نظام کے بارے میں بھی مج سے۔
اس عالم شی یکی جم و گی ساخت ےکی ےک مہ ابدگی و مدکی غیں ہے اس کے لیے بھ یکوگی وت
ضرور مظمررے جب ہہ عخم ہو جات ےگا اور ا کی عچک ہکوکی دوس راعالم بریاہوگا۔ لہ اقیاممت :شس کے آرنے
گی ت رد لگئّےءا لکاآءامْمْحَبْعد کال مل اَاشْتتَبْعَدٛے۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 6ھ
ین اس ام رکی نثانیا ںکہ رسول خداجن تقو ںکی خر دے رہے ہیں دہ فی الوائ بی یس ہیں ۔
کانات یں ہ رطرف ان ی رگد اہی دہینے وانے اجار موج و ہیں۔ اگر لوگ پ مکی ںکھو لکر ومھیں و نہیں
نظ رآجا ۓکہ ق رن میس جن مجن باقوں پر ایمان لان ےکی دعوت دئیگئی سے زین و آسمان میس سیل ہو نے
ہے شمار نشانات ان 7 نف ری کررے ہیں۔
سور ڈالرعذ حاشیتمبر: 7ھ
اد جن آنخا رانا تکوگو ای بس جن یک یاکیاے ا نکی یہ شہادت و الیل ظاہروباہر ےکمہ انس عا مکاخالی
وھ بر ایک بی ےہ لیکن یہ بل کہ موت کے بعد دوس کی زن گی ء اور عد لت ال یش انسا نکی حاض رکیء اور
ہزاو مزا کے ملق رسول اوڈد صلی اود علیہ وس نے جو خج ری دی ہیں ان کے بجی ہونے پر بھی مکچی آنمار
شہادت دتے ہیںہ ذرا شی سے اور زیادہ و رکھرنے سے بج میں اتی ے۔ اس لے مارلی حقیقت پر تن
کرن ےکی ضرورتت نہ گھ یکئی ہک وکلہ سنئے والا نل ولاک لکوس نکر دی کچھ سکم ےک لن س ےکیاشابت
ہوجاے۔ البند دوس ری یقت پر تصوعییت کے ساتقھ تنب ہک اگمیا ےکلہ اپنے ر بک علا قا تکا نین بھی
مکو انی ننانیوں یر مو رکرنے سے حاصل ہو سکتاے۔
مکورہ پالانشانیوں سے آخر تک شبوت دوط رح سے ماتاے :
الیک بک جب جم آسانو ںکی ساخت او رٹس وق رکی تخی پر غمو رکھرتے ہیں نے ہعارادل ىہ شہادت دیتاے
کہ جس خدانے ىہ تفییم الشان اجرام ھی پید اکیے ہیں ء اور جم سکی قدرت ا بڑے بڑ ےکرو کو ضا
یج شگمر وش دمے دی ہے اس کے لے مو انساٹ یکو موت کے بعد دوبارہ پیر اکر وہنا بجھہ بھی مشئل نہیں
ے۔
دوسرے ب کہ ای لام لی سے ہ مکو رہ شہادت گی من ےکلہ ال کاپ کر نے وال اکا در ہ ےکا عکیم
ہے اور ا لکی مت سے یہ بات بہت بعد معلوم ہوکی جےککہ وہ و انا یکو ایک زی عفل وشعور
صاحب اخقیار وارادہ ش لوق بنانے کے بعد اور اپقی ز می نکی بے شر چچیزوں پر تصر فکی قد رت عطا/ر نے
کے لہ انس ک ےکا نامہ رن ہگ یکا تاب شہ نے ء اس کے ظالموں سے باز پرس اور اس کے ہظلومو ںکی واد
ری تی ےک گکار آ2 اورک کرو ںآ وررے: اور اس سے می بی وی ہی
یس گج ٹت فیت ئن می نے نے تی کی تین دنع کے مات نما نال کے ای انا
راج نو بے رک اتی سلطنت کے معاملات ای کا پر دازول کے جو ال ےکر کے خو اب غفلت میں س رحار ہو
سکتا ہے لین یک کیم دداتاسے اس فاید پٹ یوتف ل کیٹ یکی نوع نہی کی اق
اس طر آسانو ںکامشاہدہ ہ مکونہ صرف آخرت کے امکا نکا تا لک متاہےء بللہ اس کے و تو کا ین
بھی دلا جاے۔
سورڈالرعد حاشیہ نمبر: 8ھ
اج ام کی کے بعد عالم ار ض یکی طرف تج دلا کی عائی سے اور یہال بھی مد اکی قدرت اور ححمت کے
نشانات سے انی دووں ضفیقوں(وحیر او رآخثرت)یر ا تشمادکیا اکیاے جن پر چچلی آیات ٹیس عالم سما وی
کے آمار سے استتشہا دک اگیا تھا۔ الن د لا ق٠ کا خلاصہ بر ے ّ
(۱) اج ام لی کے سای ز بی نکا تل ء زین کے ساتھ سوررج اور چان دا تلق ء زی نکی بے شر لو ار کی
7 پت اس نات قازرت دت ہی ںکہ ا نکونہ لو
انگ الک خد اول نے بنایا سے اور شہ ملف با اختار مد ا کا اتظا مک ر سے ہیں ۔ اگ الیا ہو ما تو ان سب
چیزوں ممی اہم اتی مناسعتتیں اور م آہگیائی ور موانشتھیں نہ پیداہو تی شھیں وریہ مسلسل تائم روستی
یں ۔ الک الک خدائوں کے لیے ب ریس مان یدہم لکر بور یکائیات کے لے فایقی و جج رکا اییا
منصوہ بنا لین ج سک ہرز زین سے نےکر آسمانوں کگ ایک دوصرے کے ساتھ جوڑ رکھائی بھی جائے اور
بھی ا نکی مصمکنتوں کے در مان تصادم داع نہ ہونے پائے۔
(۴) زین کے اس میم الشا نکر ےکا فضاۓ اسیا میس معلق ہوناء ا لکیا مم پہ لے بڑے بڑے
پہاڈد کا اھ رآناء اس کے سے پر الےے ا لے زبر دست در یو کا ایی ہو ناء ا سک یگوو میں ط رع ط رع کے
نے حد و ضماب در ختو ںکابچھلناء اور تم انچھائی با قاع دی کے ساتھ رات اور دن کے تبرت گی ز آخا رک
طارکی ہوناہ بی سب زی انس حد اکی قدرت پ رگد او ہیں جس نے انییس پیر اکیاے۔ الیے تاور ملق سے
علق ما نکراک وداشما نکوھرنے کے بعد ددباردزن گی عطائہی ںکرسمازاء عمل دداض کی یں و حجاقشت
07
)۳( زی نکی ساخت می ء انس پر پھاڈو لک پید الف می ء پہاڑوں سے دہ یلو ںکی رواٹ یکا اتنظا مر نے
میں ء پھلو کی ہ ریم دودو رع کے پل پی اکمرنے یل ء اور رات کے بعد دع اور دخ کے إحد رات
اق عدنگی سے مات لانے میں جن نار حمتلیں او مین بای لی ین دہ زی ارک شارت دتے رق
ہی کہ نخس خدانے تل کاب قش بنایاہے دہکمال در ہ ےکا ععم ہے۔ می سادرکی زی خجمرد ہق بی کہ می نہ
وی بے ارادوطا ح تک یکیار فرمائی سے اور ن ہکس یکھلنزر ےک اکھلونا.۔ ان یں سے ہہ ہرز کے اندد الیک
عی کی عکرت اور اتکی بالغ حم تکا مک تی نظ ری ہے یہ سب پچ دیکھنے کے بعد صرف ایک نادان بی
ہو ساس جو یما نککر کہ ز من انبا نکو پیلد اک کے اور اسے الک ہنگام آآرائیول کے موائعح دو ےکر
٠ص 0)2
سورڈالرعد حاشیہ نمبر: 9ھ
یھی ساری ز می نکو اس نے جلسماں :ناک خییں رکھ داے بللہ انس میس بے شمار خلے پیر اکر د بے ہیں چو محصسل
ہونے کے پاوجودشکل بیس ء رکک میں ء مادہ ترکیب یل نا صصبت و بین توفوں اور صلاعلتوں مل ٠ پیداوار
او رکیمیادٹی یامععدی خزانوں مج ایک دوسرے سے پاائل محخلف ہیں ان مفلف خطو ںکی پید ال اور ان
کے اندد رح رح کے اختلافا تکی موجودگی اپنے اندر ای عھتیں اور میں رکھتی ےکلہ ا نکاشار
نہیں ہو سکنا۔ دوسربی تنلوفواتں سے تطع نظرء صصرف ایک انساان بی کے مفادکوسائے رک ھکر دبیکھا چائے و
ند از ہکیاجا سک ےکہ انسا نکی ملف اخ ات ومصراغ اور زان کے ان خطو ںک یگوناگوٹی کے در مان چھ
مناسیی اور مطا ہیں پاکی جاتی ہیں ء اور ا نکی بروات انسالی تر نکو پھلنے چھو لے کے جو موائح یہم پنیے
ہیں وو یق رای عتیع مکی گکر اور اس کے سو ہے سے منصوبے اور اس کے دانشمند انہ ارادر ےکا مشیہ ہیں۔
سے شض ایک انفاقی حادظہ قراردسینے کے لیے بڑی ہٹ دع ری درکارے۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 10ھ
مور کے ورختوں میں ٹن اىییے ہوتے ہیں ج نکی تجڑ سے ایک می تفائکناے او رن ٹیس ایک جڑے ددیا
زماد سن لیت ہیں_
سورڈالرعد حاشی تمبر: 11ھ
اس آیت یں انل کی وحید اور ال سيکی ققررت و حکمت کے نتقانات دکھانے کے علادہ ایک اور فی تکی
مرف بھی لطیف اشار ٥ک یاگمیاے دوہ یہ ےک الد نے ا لمات می لکنییں بھی یکسائی نمی رکھی ے۔
ایک بیز ین ے گر اس کے قطع این بے رگھوںء شکلوں اور خاصیتوں میس جب اہیں۔ ایک بی زین اور
ایک ہی پاٰی گر اس سے طرع رح کے سے اور ہیل یداد رہے ہیں۔ ایک بی درخت اود ال کا ہر
پل دوسرے پچھل ے نوعیت میس مد ہونے کےگاوچچجییشکل اور جسمامت اور دوصرىی تححوصیات میں
لف ے۔ ایک می جڑ سے اور اس سے دو الک من لکتے یں مجن میں سے ہر ایک ابیقی الگ انفرادی
خحصوصیات رکتاے_ ان باتوں پر جو شف خو رکرےگادد بھی یہ دس ےکر پان نہ ہو گاککہ انسانی اك اور
میلانات اور مز اجوں می اتا ا ختلاف پایاجا تا ہے جب اک آگے تچ لک ای سور ئیں فرمایاکھیاےء اگر الد
یا تاذ سب انسافو کو بلکساں بنا سکتا تھا ء گر جس حلست پر اید نے ا ںکانجا تکوپید اکا سے وہ کساٹ یکی نیس
بلہ تع اور ر مگا رگ یکی مننقاضی ہے س بکومکساں ہنادیے کے بحعد توم ساراہطگامہ وج دئی ہے می ہ کر
روعاما-
سورڈالرعد حاشی تمیبر: 12ھ
تی ا نکا آخرت سے الکار دراصمل خمداسے اور ا سکی قعدرت اور حکمت سے الکار ہے۔ مہ صرف اتنائی
یں سک کہ ہھارامٹی بیس مل جانے کے بعد دوبار ہپ ابہونا خیبر کن سے ء کیہ ان کے ای ثول میں۔ خیال
بھی لو شیردے کیہ محاذالددہ مد اعاجتزدور ماند ہاور نادان و بے خر دسے شس نے ان کوچ اکیاے۔
سورڈالرعد حاشی تمبر: 13ھ
گر ون یں طوق پپڑا ہنا قیربی ہون ےکی علامت ے۔ ان لوگو ںکیگمردنوں میں طوق پڈڑے ہہون کا
مطلب بہ ہ ےکہ لوگ اپقی جات کے ء ایق ہٹ دع ری کے ء اپقی خو اہشات ٹف کے ء اور اپے آ باواچراد
کی ان دجھی تقلید کے اسر بن ہو یت آزادانہ ور فک خی ںکمر سک ا نہیں ان کے تحصیات نے ایا
یز رکھاے ےپ آظرت کو لیں مان سک ار اس کا انطاص را م متقول ے٤ اور اڑکار آخرت پر ہو ئے
یں اگ رجہ وو راس نامتقول ے۔
سورڈالرعد حاشی تمبر: 14ھ
کفارککہ نی صلی اللہ علیہ و عم سے سکتتے جھےٹکہ ارم دای نچی ہو اور تم در سے ہوک جھم نے ت مرکو ملا دیا
ہے اواب آخ چم پر دو اب آآکیوں یں جا ماج سکی تم پ مکو کال دن ہو؟ اس کے نے میس خواہ
فواہ دی کیو ں لک رہی ہے ؟ مبھی وہ جج کے انداز یش کت ےہ "یت خلا تنَا قگتا قَبَل َو
نف ۔لل ھ2
انحيصاب' (غحدایا مار ا صماب نذ اج یکر دےء قیامت پر نہ اٹھا رکم اور بھی سک کہ کہ" الَق ان فَانَ
2
ام
١َ هُوَاحق مِن حِنيك فَأَنْطِزِعَلَیْنَا َلَيْتَايجَارَةٌيِن الشَتَاءآوأيِتابعَذابآلم۔''(غا
ری اش جوم مل علہ دس پٹ کررے یں ژیں اور تی رکا بی رف سے ہیں فو ہم پر آسمان سے
ےو ووا مرا ریما آیت می ںکغار اٹچی بانو ںکاج اب دی ایا ےکلہ ىہ
نادان خر سے پپیلے شر مات ہیں ء ادڈ کی طرف ا نکو نچھلنے کے لیے جو مہلت دگی جار ی سے اس ے فاکدہ
اٹھانے کے بھاۓ مطالہ ہکرت ہی کہ اس مل تکو جل گی ت مک دیاجاے اور ا نکی با خیاشہ روش پر ٹورا
گرم تک ڈالی جاۓے_
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 15ھ
ای سے ا نکی مراداڑسی نثای شی سے دک کر ا نکوششین آجا ۓےکہ مج صلی اللد علیہ وسلم الد کے رسول
ہیں۔ دہ آپ صلی اللد علیہ و سل مکی با تکو ا کی تقانیت کے د لال سے سمجچھنہ کے لے تار نہ تھے دہ آپ
صلی ال علیہ ول مکی سیر ت پاک سے سج لین کے لیے تیار نہ تتھے۔ اس زبر دست اغلاقی انقلاب سے بھی
کوئی تتیہ اخ ذکرنے کے یے ار نر تے چیپ صلی اولد علیہ ول مکی معلیم کے اق سے آپ صلی الد علیہ
تم کے ا کی زندگیوں میں رو نما ہور ہاتھا۔ دہواان ممقول و اتل پ ربھی غحو کر نے کے لیے تیارشہ سے جو
اع کے مم رکانہ ہب اور الع کے اوہا ام جا لیت ایت کی فلک دا مک نے کے لیے و یں سے جا
رہے تھے ان سب چیزو ںکو مو ڑکر وہ جات کہ انی ںکو کر شمہ دکھایاجائۓ جس کے معیار پر وہ
جھ صلی الہ علیہ وسل مکی رسال کو جا میں۔
سور ڈالرعد خاش تمبر: 16ھ
بی ان کے مطا لی ےکا مقر ساجو اب سے جو بر اووراست ال عکودہینے کے بھجائے الد تھالی نے ان من رصکی الد
علیہ و سل مکو خطا بک کے دپاے۔ ا کا مطلب بہ ےکہ اے بھی صلی الد علیہ و سکم تم اس گر میں شہ پڑد
کہ ان لوگو ںکو مم کر نے کے لیے آخ کون ساکرشمہ دکھایاجائے۔ ققہہاراکام ہر ای کو “عمش نکر دینا
یں ہے۔ تھہاراکام فو صرف یہ ےک خ اب غفلت بی سو ہو ۓل وگو ںکو چو کا رزاورا نلافلٗاررگ
کے برے امام سے خر دا رکرو بہ دممت پھ نے ہر زمانے میں ء ہر قوم میس ء ایک نا الیک ہادی مقر رکر
کے پاہے۔ اب تم سے مکی خحد مت نے رہے ہیں اس کے بعد نج سکابٹی چاے تھی ںکھونے اور جم کا
ھی چا غفلت بش پڈارے۔ بہ نمرج اب د ےکر الد تعالی ان کے مطا لی ےکی طرف سے رع بھی رلتا
سے اور ا نکو تنک ہا ےک ہت مکی ند عی گی میس نیش رج ہو جہا کی چویٹ راج ہکاراج ہو۔ تہارا
واسلہ ایک ابی حد اسے ہے جو تم میں سے ایک ایک شی سکواس وقت سے جاتتاہے ج بک تماق مانوں
کے پیٹ میں بن ر سے تہ اور زن گی چھ تہارک ایک ایک ہمت پر مگاورکتناہے۔ ااس کے ہاش ہار
قمتو کا فیصلہ شحبٹہ عرل کے ساتھ تمہارے اوصاف کے فحاطا سے ہو اے ء اور ز ان ھآسمائن می لکوگی ای
طانت یں سے جو اس کے صھلوں پر اثرانراز ہو کے_
٢۶وکر
اترتا کیل ۷تت یا 22707 تمائزئد 7ل کوعٹزاتار
(2 غلِۂ الْفَيْبِ و المْهَاءَةِ الَکَيِيْر الْمْعَعَال 2
جَبَرَبدِۃ مَن هُوَمُستتْفيِ بالْمْل دَمَارِ بٌٔ بالنَھَار (كي لَهُمُعَقِبِتٌهِنْبَيْنِ وََيْهدَمِن
0۳ ہیے گہذ۔) وھ طٰ ۹ ََٗ طاے > سر می ہس مگ
خلمْد بحفظوند مِن اھر ادلعِ ِن الله لا يُغَیرژُما بقوم حی یکنا تا بآنفیےٴ و اذا
ہے۔ہ۔ و ہو و کی >> 7ے ا ۳ تے۔۔۔۔ بت و سے ھن 7 .ْ۶ ہت ےم
راد الله بقوم سوا فلا مردلہ 0 ۹ ۶"
> ود ۰ و ور جک
ت ؤٌ طمَکًا ڈٌ بُنشی الشخاب الشمال یےچھ بر رہ کت
خِیْتَتِه ٥ یْزسلُ الشَُوَاحِق فَْصِیْبُ بِھَا من َء وَھُميَادِلُْنَ ي الله دَمُوَمَدْنِ
5 ۔ طےے ی- ُ 7 اك : ۔2 ۔ َ
الْمعالِ ا لَەٗ حَعُوَة العَقی ٥ الَذِيْتَ یَدْحُوْنَ مِن مُذیه لا یَمَتَبِيْبُوْنَ لغ بشَئْو الا
2 سی رب گے بہمھوے مھ ا ہو وی کے ہے 7
کمَاسِطِ کَفْهّد! لی المَاء لِیْمَلع فاد و ما هو بمَالغفه و ما ذعَاء الَککفِرِيَّنَ الا ق ضلل
وَیِلَهِ يَمْجُدْ من الف بت و جت
02 2 7 ی۲٢ رر ٦ وط ک 2 و رز ےک --70
قل مَن زب الشبوت و الازژض قُل ال فلا َاكَزْحْمْضِن هُِيَة اَوَلِيَاءَلَ يَنَيِصُوْتَ
َ۔ ۳
أَننِم نَنْمَاؤَلَفَرٌٴ قُل هَل يَمَکوی الّخْلى وَالْبَصِيْۃ ام مَل تہ تَستوی الظُلثُ
الشُوْر ای جَعَدُوْا لہ هُرَفَاءَ كَلَقُؤا َعَليہ فَتمَابَة الْتَلَق عَلَۃٍهٴ قُل الله عَالِق
سس 1 7 ٍِ کے سو ے۔ ۸2ت کے تج ىر ہےڈ تو
کی ڈیو و ھُو الوَاحِنَ الْقَهَار 2 اَنْوَلَ مِنَ السَمَاءِ مَاء فسَالت آَوْحِيَة بِكَدَمِما
ط
بکجفدےءے > ہروا ےہْےے ًٌ ے شض َ سرت و وہہ 7 : ۔۔ ہے ےھ ۳۰.٠۔ 97
فاحَْقَمل السَیّل زبّدا زَابیًا ٥ يَوْقَِدَدْن عَليْد ي الثارِ ابَتِعَاءَ حِليَے او مَماع زبّدں
و
و عرطے ا دہ لو کر نے ےھ می کر وھ ما گے ہپ و >
يِْفْلهُ کَذْلِكَ یَض رب الله اق و الْبَا طِل؟ فَامًا الَبَنَ فَیَذهبٔ جِفَاء و آَمًا ما يَنَمۃ
۰ ٍ ہے 7 طے ٠ ١ 2 7 دے۔ ہ۔ے۔۔ ط ن َ
النَاس فینکٹ ف الازْضِ گَذلِكَ یَشربُ الله المْغَال () لِذَدِيْنَ امْتمَابُوا ابع
و [2
رت ےت ہچورہ دّ0 یں نے ص و22٣“ 5> و مونرٹ.۔
ا سی و َالِيْن لمْیَمْتبِيْبُوْالهُلوَْآنلَْمًا فی الازضِ جَِيْعَاوَمِعْلهُمَعَذَلافْمَدَذا
ط 807 ے2۶6 .- 2 2 و ہب ط 2 7
ب أوليكَ ھم موہ ا ساب و مَاویغ جَهَعغ دبئی اليهَا٥ذق
٢ رکوع
ال ایک ایک عاملمہ کے پیٹ سے واقف ے۔ جو بیجھھ اس میں جڑا سے اسے تھی دہ جانا اور جو بٹجھ انس میں
ھی اتی ہہوکی ہے اس سے بھی دہباخمردجتاہے۔ ہرز کے لیے اس کے ہاں یک مقدار مقر ہے۔وہ
ار ظا کا ارب ورک ہے او ال بین بے والاے نشی کوک یفن
خواوزورے با تکرے یا آہتنہء او رکوگی را تکی متار کی شی چا موا او نکی رو شی یس چل رہاوء اس
کے لیے سب بیماں ہیں۔ ہ رت جک گے اود یی اس کے مقر ر کی ہو ۓےگگرال کے ہو ئے ہیں جو اللہ
کے عم سے اس سکی دہ ھا لکرر ہے بی پل تق یقت ہہ ےکہ ال دی قوم کے عا کو ننیں بدلتاج بتک
کہ دہ خود اپنے اوصا فکو نی بل دہ اور بالل لی قو مکی شمامت لان ےکافیصل ہکر نے و پچرو سی
کے ہانے یں خل مت ء نہ ال کے متقا لے میں ایی تو اوک ی ھا بی وید دمار ہوسا ے_ 19
وئی ے جو تمہارے سائے پجلیاں چکاجا سے جن ہیں دک کر ہیں از کے بھی لان ہوتے ہیں اور أممی رر
بھی بنلد می ہیں۔ وی ہے جو پالی سے لمدے ہو ے بادل اُٹھانتا ہے بادلو ںکیمگر ع ا سک جح کے ساد اس
گیا پا میا نے 0ور فرش ا سکی یت سے کرزتے ہوے ا سکی تی جکرتے ہیں۔ نو ک کی
ہوٹی کیو ںکو بییتاے اور سا او قات پا یں جس پر جا تاس ین اس حاات می لگ اد یتاے ج بک
وآ اق لے رارے ین ھکڑرے ہوتے ہیں نی الوا 0-0 گی جال بڑی زروست ے22
ا یکو بکارنا رجح ے۔ شر ہیں وہ ڈوسری ہستیاں جتجیں ا سکوبچھوڑکر بت لوگ پکارتے ہیں ٤د ا نکی
دا ںکاکوگی جو اب نڑیں دے ستیں۔ أ نمی پچار نانوی ماے تی ےکوگی فیس با یکی طرف ہاتھ پیلک اس
سے درخواس تکر ےک تو میرے من کک تچ جاہ عا لاہ بای ا کک پچ دالا شھیں۔ بس ای طرح
کافرو ںکی دعائیں بھی پٹ نیس ہیں گر ایک تیر بے ہدف ادو تو ایی سے جچ سکو زین و آسا نکی ہرز
وم وک اسر دکرربی ے ین اورسب پچزوں کے سائے سی وظام اس کے آ کے مجھکنے ہیں۔ سے اھ
نوکیاتخم نے أسے چچھوڑکر ای معبودو ںکو اپناکار ساز ہر الیاج خود اپنے لیے بھ یکسی طف و نقتصا نکا اختیار
یں رکھتے ؟کہو ہکیا اندھا اور ہنعھوں والا برابر ہو ارجا ے؟ گھےکیا روشنی اور متاریکیاں یکساں ہوئی
ہیں؟ اور اکر ابا یں کان کے تفر اۓ ہو ۓ ش ریوں نے بھی اڈ کی مر جکھ پیل کیا ےک اس
کی وجہ سے ن پر غحلی یکا معاللہ مشتہ لہ وگھا؟۔-۔_۔ اھکہوہ ہر کا خالقی صرف الڈدے اور دہ یکنا ء
الپ ئآ سال نے ابر سایا اور پر نر نالہ اپ ظر ف کے غمطا لق ا سے ےکر تل اکا پچ ر جب سیااب اھا
قٍ ما بر جاک بھی گے اور ایے بی راک ُن دھاوں یھی نے ہیں نہیں زور اور بر تن و خی رہ
بنانے کے لے لوگ پکھلا کرت ہیں۔ ھ2 سی مثال سے الل تی اور ال کے معا لٹ ےکووا جک جا ے۔جھ
سچھاک سے دہ اُڑ جا یکر اے اور جو چز انسائوں کے لیے نان ے ووز بین میں ہر اتی سے اس مر الد
مالوں سے اباقی بات مبجھا تا ے۔
جن لوگوں نے اپنے رسپ کی دعوت تو لک لی ان کے لیے بھلاٹی ےء اور جنہوں نے اسے تقول ن ہکیادہ اگر
زی نکی ساری دوات کے بھی ماکک ہوں اور اتی بی اور فراب مکر لیس فدہ نید اکی کڑس جینے کے لیے اس
س بکو فدیہ ٹیش دے ڈالے کے لیے تار ہو جچائھیں گے پبہ دہ لوگ یں جن سے ری طرح ضاب لیا
جا ۓگ اور نکا انا جنحم ےہ بت بی ٹر کان ظ۳
سورڈالرعدذ حاشی تمیبر: 17ھ
اس سے مراد ہہ ےک مال کے رم میں ئے کے اعضاء ا سکی توتوں اور تق یتوہ اور ا سکی صلا عیتوں
اور اظفر اررح ا و نز 1 از یادگی ہے الدب اوراسصت گھراٹی یں ہو اے۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 18ھ
فی ات ضرف تی ین نال ای فیک جن لی رت دک ادا کی نام
کات وسکنات سے واقحف ے ء بللمہ مز یدب رہل ال'ر کے مقر بے ہو ۓ گر ال کا گی ہر تخس کے اج
کے ہو ہیں اور پر ےکا نامہ ز نل دگ یککار بہار ڈ مفو کرتے جاتے ہیں۔ اس مففیقس تکو بیال نگم نے سے
مخصودیہ سےکہ الییے دای خد کی یس جو وگ ہہ مھت ہوئے زم دگی ل مکرتے ہی ںکہ انیس شت بے مہار
کی رت زشن پچ جھوڑد ماگ اے او رکو کی یں یس کے سام وہ اپنے نام اعملی کے لیے جو اب دہ ول ٤وہ
درا مل ابیقا ام تآپ لات ہیں-
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 19ھ
یجن اس فلط غبھی میس بھی نہ رہ دک اڈ کے ہا نکوکی یر یا فقیرء اک کی الا پچچھلا ہز رگ یاکوگی جن یاف ر شنہ ایا
زور آور ےکہ تم خو او یٹھب یکرتے ہو٤ دہ تہارکی نذروں اور یازو کی رشوت نےکر میں تمہارے
برے اعم لک باداش سے ا لے گا۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 20ھ
نی بادلو ںک یکر نج مہ ظاہ رکرپی ےک جس خدانے یہ ہو ائیں چلائیںء مہ ھاچیں اٹھائیںء ى یف باول جح
ہے ء اس ہگ یکو جار شکاذد یج بنایا اور انس رح زی نکی شلوتجات کے لیے پال یی کیم رساٹ یکا اضنظا مکیاء دہ
سبوں وقد ول ٤ے ء ابی مت اور ققدرت می لکاعل ےء ابق صفات یں بے عیب سے اور ابیقی خد ائیٰ یل
لا یک ے۔ چانوروں اط سے وا لے لو ان بادلوں مین صر فگرر کی آوازہی تن ہإں- گھرچوہوش
کےکائن رسککتت یں دہ بادلو ليکی ز بانع سے فو حی کا یہ اعلالنع نت ڈں-
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 21ھ
نعل ار ے در کے رت یت کے اض ےا اس سی ےکیاکہ
مث مکی ہر زہانے میں فرشتو ںکو دیدج اور معبود قرار دن ر سے میں اور ا نکممان دبا ےکک دہ اللہ تمالی
کے ساتھھ ال سکی خد اک ٹیس ش یک ہیں ۔ اس خلط خیا لکی تر دید کے لے فرما ماگ اک دہ اقیتہ اد ایی ٹیل خد ا
کے ش یک نیس ہیں بلکمہ فرمانبر دا حادم ہیں اود اپنے آ ا کے جلال سےکاٹیتے ہو ا سکیس کر سے
ہیں۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 22ھ
ین اس کے پاس بے شحار ھ بے مہیں اور دہ ٴس دفت جس کے خلاف جس 7 ہے سے چاسے ایض طر یق
سےکام نے سنا ےککہ چوٹ پڑنے سے ایک محعہ پیل بھی استے خی ر نیس ہہوٹ یل ہکم در سکب وٹ
پڑنے واٛدے۔السی مادر ملق ہستی کے بارے یں بیوں بے سو پچ تھے جو لوگ الٹی سی رھ پا تی ںمرتے
ہیں انی ںکون تعن کہ سکتاسے؟
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 23ھ
پارنے سے مراد ابق عاجتول یل مدد کے لیے پکارنا ہے مطلب ىہ ےک عاجت رواگی و مشک لکمرائی کے
سمارے اخخارات ای کے بات یں نہیں٢ اس لیے صصرف ای سے دعائیں مانگنار جن ے۔
سورڈالرعد خاشیہ تمبر: 24 ھ
سیرے سے مراد اطاعت بیں جھلناء عم جانا اور سر لیم خ مک ناہے۔ ز بین و سا نکی ہر عفلوقی اس می
ٹس الٹ کو سحبد ہک ری ےک دہ اس کے تانو نکی مم سے اور ا سکی مخیت سے بال بد ابد بھی سر جال
ہی ںکر کی مون اس کے کے برضاورخخبت جھلنا سے پوکاف رکو مچبوراسچھلنا ڑا ےکی وککہ خحدا کے
قا نون فطرت سے لزا اا لک مقررت سے باہرے۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 25ھ
سایوں کے سد ہکرنے سے مرادیہ ےک اشیاء کے سائو ںکا سی وشام مغرب اور مشر قکی طر فگ نا اس
با تکیاعلامت س کہ سب پچ زی می کے اع کی مج او ری کے مقامون سے مس ہیں
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 26ھ
وا ر ےک ودلوگ خود اس پاچ ے تقاتگل تج ےکہ زین و آسما ن کارب الد ہے ۔ وو اس سوا لیکاجو اب
الگا رکی صورت مل یں دے سکت تھے مکی وکلمہ یہ انکر خود ان کے اپینے خنقییرے کے غلاف تھا_ کن ى
صلی ایند علیہ وسلم کے بب چپ پر دو اقرا رکی صورت می ھی اس جو اب دنینے سےکقراتے تھے ؛کیوکمہ اقرار
کے بعد توحی کا اننالازم آجاتا تھا اور ش رک کے ل ےکوگی متقول ماد باقی ٹییں در ہتی تھی۔ اس لے اپنے
موق فک یکمزوری سو ںکر کے وہ اس سوال کے جواب بین چپ سادھ جاتے تے۔ می وجہ ےکلہ
ق ان میں مہ لہ اللہ تال نی صلی الل علیہ وسلم سے فرما تا ےککہ ان سے و کو ز ین ھآسا نکاخال کون
سے ؟ کا تنا تکار بکونع سے ؟ ت مکورزقی دہینے وا کون سے؟ پچ عم دبا ےکلہ تم خو کہ کہ الہ اور اس
کے بعد بیوں اتد لا لک تا ےکہ جب یہ سار ےکام ایل کے ہیں فو آخر بی دوسر ےکون ہیں مج نکی تم
بندگی سے جارے ہو؟
سورڈالرعد حاشی تمبر: 27ھ
انر تی ے مرادوہ تن ہے جس کے اگ ےکائیات می ہر طرف اڈ دک وعدانیت کے مار و شواہد بے
ہوۓ ہی گر وەان یل س ےی چم کو بھی نییس دکچھرہاے اور کول وانے سے مرادوہ سے جس کے
یکا تجات کے ذرے ذرے اور نے نے میں مرف تک دگمار کے دفن زکھلے ہو ۓ ہیں ۔ ایند ای کے اس
سوا یکا مطلب بی ےک خقل کے اند ھو !اکر میں پچھ نی سوجچت نو آخر نشم ینا ر نے والا اپتی میں
کے پیھوڑے جو نیس حقیق کو آشکار در سے اس کے لیہس طرح محکن ےککہ وہ تم بے اصیرت
لیے
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 28ھ
روشنی سے مراو علم ج نکی دو روشنی ے ج نی صلی الد علیہ وسلم اور آآپ صکی الد علیہ وسلم کے نی نکو
حعاصل ھی۔ اود جارییوں سے مراد ججاا تکی دہ تاریکیاں ہیں جن میس مگ رین سجککک رسے جے۔ سوا یکا
مطلب بپ ےک ہج سکورو شی م ل چپ و ہکس طر اہن شف پچ اکر اندعیرروں میں ٹھ وک ری سکھانا یو لک
سے ؟ تم اگر ور کے قدرشناس نویں ہن توکہ ہی ۔ لیا نجس نے اسے پالراے :جو ٹور وظللت کے فر قکو
جاع چچکاے جو دن کے اجانے میں سر ھاراستہ صا دکچھ رہاےء ووروشن یکو تچھو ڑکر جاریکیوں میں ھت
رنے کے لیے کسے آمادو ہو سلتا ے؟
سورڈالرعد حاشیہ نمبر: 29ھ
اس سوا لکامطلب ىر ےکہ اگر دشیائٹ چچھ زی اید تال نے پید ای ہق اود کہ دوس رو نے ء اور یہ
معلو مکرنا مکل ہو کہ د اکا یق یکا مکونسا سے اور دوسروں کاکونساءحب و واتتی رک کے ل کوئی
مقول بنیاو ہو تی شی لیان جب بہ مش کین خو دمال بی کیہ ان کے معبودوں یل ےم ینے اسیک جا
اور ایک پا یکک پی انی لکیاےء اور جب یں خو و سحلیم ےک خلق میں ان جم خد او کا ذدہ برا بھی
کوئی حصہ یں ے )نو پپھرہہ ضچلی معبود خالقی کے اغخقیارات اور اس کے تقوق میں آخ رسس بنا یر ش یک
تیر لے گے ؟
سورڈالرعد حخاشیہ نمبر: 30ھ
ام میس لفظ قٹچسار اتال ہو اے شس کے مم ہیں“ دہ سی جو اپنے زور سے سب پھ عم چلاے اور
س بکو مغلو بک کے رھ “۔ یہ پال تک ” الدخی ہریز کاخالقی سے /, مت مکی نکی اپنی تسلیمکر دو عقییقت
2 یت این ٹت-ص 020 ۶ وو یکنا اور تار ے“ اس تسلیم شد و قیق تا لازی سے
سے جس سے اکا کر ناء چبلی عقیق تکو مان لیے کے بعد ءکسی صاحب تل کے لے کن نیس سے۔ اس
لے کہ ج ہر چک خالقی ے٢ دہلا ممالہ ناد بگان سے کی کہ دوس ری جو چچ بھی سے وہ ا یکی حخلوق سے پھر
جھلا ے کے ہو سکتا ےک ہکوکی محلوقی اپنے خال قکی ذاتء یاصفاتء یااخقیاراتء یا جو ٹیس ا سکی ش ریک
۶و ای ط رح ولا عحالہ فقیچ ار بھی سے ءکیوکں: مخلو یکا ہے ابق سے مغلوب ہ وکر رہن عین نصور مخلوقیت
یس شائل ے۔ غلب ہکائل اگر خال قکو جا صل نہ ہوقو وہ خلقی ہیک ےکر کا سے بیس جھ تنس ای کو خالق اما
ے اس کے لے ان دو الس عقلی و مق قیجوں ے اڑکالین گا ہمکن کیو ر جتاء اور اس کے بح یہ بات
سراصر غیر معقول شحیرنی ےک ہکوگی تنس نال یکو چو کر عو ق یبن دک یکرے اور ال بکو مچھوڑ
مفلو بکو مشک لکمشالی کے لیے پکارے۔
سورڈالرعد حاشی تمبر: 31ھ
بس پیل میں اس عل مکو جو بی صلی اللد علیہ وسلم پر دوہی کے ذریے سے ناز لک امیا تھاء آسالی بارش سے
تبیہ دیگئی ہے۔ اور ایمان لانے وانے لیم النفطرت لوگو کو ان ندی زالوں کے مانند تھی را ایا سے جو
اپنے اپنے ظمرف کے مطاب باران رحمت سے بھ ور ہ ھکر روال دوال ہو جات ہیں ۔ اور ال ہنگامہ و
شور شلکو جو تح ریک املائی کے غلاف مگ ربین و مالین نے پر اکر ری تھی اس ماگ "رڈ
ماش اک سے تنقبیہ د کٹ ے جھ بییشہ سیلاب کے ات بی می ابق ام لکوددکھاٹی شر و عکر دیتاے۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 32ھ
نی ھٹی جس کامم کے لی ےگ مکی جانی سے وونڈے خااحس دحا تکوتچاک رکا رآ مد بننا ۔گگم بککام جب گج گکیا
جا اے مل گیل ضرور ابھ رآ اے اور الس شمان سے جر خنکھا ا ےکہ باھ دی ہکک ما بر اس وی دہ نظر
آتاربتاے۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 33ھ
یی اس وفت ان پر ای مصیببت پڑ ےگ یک دہ ابق جان مٹرانے کے لے د نیاو اڈ کی دوات دے ڈا لے
0 2
سورڈالرعد حاشی تمبر: 34 ھ
ری ساب ٹٹھی یاسخت حساب ٹٹھی سے مطلبِ بیز ےک آ وب یک یکسی خطا او رکسی لغ کو معاف ن ہکیا
جاۓ ءکوگی تصمور جو ااس لن ۓےکیاہد مو انمزے کے اخ رظ گچفنڑاجائے-_
ش رن میں اتا ےک الد تال ی اس طط ر کا محاسبہ اپنے الن بنل ول ےکر ے گاچجھ اس کے پا ھی بی کم د نیا
میں ر ہے ڈیں۔ تخلاف الس کے کول نے اپنے خد اے وفاداری کی سے اوراسں کے مم ف مان بن اکر رے
یں اع سے حماب یی رھش پلکا ساب لیا جات گاء ال نکی خحدمات کے ہما می ال نکی خنطائول سے و رگمزر
کیا جا ۓ گا اور ان کے مھ و گی طط رز عم لکی ببھلاٹ یکو مو ظا رک ھکر ا نکی بتک یکو تاہیوں سے صرف نظ رکر
پیاجا ےگا ا لکی مزید وچ اس حریث سے ہو تی ے جو ححضرت عائشہ صدیقہ ر شی الد عتپاسے الو داد
بش مروی ہے حضرت عائئشہ صد وق ر شی الد عنہا ف بای ہی ںکہ میس نے عر کی یار سول اد صلی ال
علیہ وسمء میرے نزدی کاب ال دی سب سے زیادہ خو فاک آیت وہ سے جس میں ارشاد ہوا ےک ''
خن نکنل کان ف اج شف نکی :را یکر ے ادا نکی مزا نے گا یحو لی کی
وسلم نے فمایاعائئقہ کاخ ہیں معلوم نی کہ خداکے مف فرمان بن ےکو دای جوکایف بھی من
ہے کہاگ کوک یکاابھی ا سکوئچچتتاہے فو ایل اسے اس ک ےکی ن کسی تصو کی مزا قرار د ےکردتیای
ٹس ان کا صساب صا فک دبا سے؟ آخرت بیں تو یجس سے بھی محاسپہ ہکاوہ مزا پاکر رسے گا۔ نضرت
عائشہ صد یتہر شی ایل عنیانے ع رخ کیا پچ راد تی کے اس ارشا وکا مطل بکیا ےک "فَأمًا مَن أوق
مه بَِییہ فحؤت تيب صا با ناج سکانامہ احمال اس کے سید سے بات ہش دیا
جا ےگا اس سے پلکا ساب لیا جا ۓگاء حور نے جو اب دیاہ اس سے راد ے ٹیھی مڑنفی ا کی بچھلا یوں
کے ساتھ ال لک ب ائیال بھی ال چا کے سان ضرور بی ہو ںگی گر نیس ے باز پرس ہہوکی وو ٹوٹ
جھل کہ ماراگیا۔ ا لیا مثال ای لے یے ایک تنس اپنے دفادار از مکی جو سو ٹی خطانوں پر عبھی
مل گرفت فی کر تا بلللہ اس کے بڑے بڑ نے تورو یکو بھی ا سکی خدمات کے ٹیل نظر محا فک دبا
سے لین اگ کسی ملاز مکی داد ی وخیانت ثابت ہو نجانۓے فو ا سک یکوکی غعدمت تقائل ظط غنیں رہق اور
اس کے یھو نے بڑے سب تصور شار میں آجاتے ہیں-
رکو۳۶
ان يَعلَمْانَمَأنْزِل الَْكَ من ذَبَك الحق کمن مُوَآَحَلی وروی
الَرْهكَ ُوفُوْنَ بِكَهْدِ الوَلا یَنَقْضُوْ وت الْمِیْمَاق حا ذدَالَزِيْنَ وَلوْنَ ما آمر آنْ
يُوْصَل وَيَنْعَوْتَ دَتَهم دَیََافُوْتَ ملء ا ماب تد الَزِيْنَ صبَرُوا ابَيِقَاء وَج رَتق 2
وا القَللوةدَاَنْقَقُوْ اه رَرَقْلهْيِزٌا ََعَلَاييَةۃَوَدْرَعُوْنَبِالحَسَنَةَالسَیِمَذَأولِكَ
ید
لیف
ٌَ۔
عو ۶28
تغ خلی ادذدر رق عڈے عذو ا وَ مَنْ صلۃ ِن ابَأِه ة اَزَْاجه مد
تا الله بِةَ
ث يؤْصَل وَيْفْيِدُوْتَ ف الاَرَضي أوتيك تع الَعَْةُ دنع مُرء الدّار رق الله یَنشط
ون تناد ٦ .تم" ما الحَیوة الدُنیا ى الخِرَوّإلّ
ما۵
٣ رکوع
ھا نف لکن کی نس تارے کن اکیس ا کون اس وا ل کے جن اتا
ور رگ ورس ئا ٹر نے ےسیا مان کیلماں ہو جائ٠لں ؟ 5ے و رشیر
لوگ می تقو لک کرت ہیں۔ 28 اور ا ن کا طر ز مل یہ ہما ےک اللد کے ساتجھ انے ععبد کو لو راکرتے
یں ء اے مفخبوط باند سے کے بعد و ڑ نہیں ڑا لے گان یروش مہ ہوٹٰے 9۶ - کوھت
بر تھرار رک ےکا 27 دہاے 28 مر ا رھت ہیں ءاپنے رٹ سے ڈرتے ہیں اور اس با تکاخوف رھت
ہی سک ہیں ان سے ری ط رع حا بیلھااے۔ ا نکاحال مہ ہوتا ےکم اپنے رسی کی دضاکے لیے صبر
ےکام لیے ہیں لاہ نماز فا مک تے ہیں ء مار ےکور ہو ئۓ رز شش سے علاعیہ اورپ شیرہ خر جکرتے
ہیں ء اورئر ا یکو بچھلاگی سے ون کرت ہیں_ 40 آخر تکاگنن انی لوگوں کے لیے سے ء ]شی الیپے باج ان
گی ابدیی قیام گا وہوں گے۔ و خودبھی ان بیس داشل بہوں کے اور ان کے آپا اچر اد اور ا نکی و لال اور
او٤وسلضےفھئی زآق وآ لک ری رک ا مر فرفرےاورے2
اتقبال کے لیے آیں کے اور ان سے کہیں گ ےٹک مم چ سلام٣ی سے 1 ے و میابیس بس رر عبر
سےکام لیا کی بدوات آج تم اس کے سخ ہو “...بی ںکیاہی خوب سے می خر تکاگھ را سے
دولوگ جو اڈ سے ع کو مضبوطا باندہھ لیے کے بعد توڑ ڈا لۓ ہیں جو ان راو ںک وکیا ٹ ہیں جن یں الڈر نے
جوڑن کا عم دیاےء اور ج زین یں رسارس ری کے “ تس رو لیے آخرت
ہیں بہت را سکارے۔
الد ٘ سکوچابتاے رز قکی فرائی بخشاے اور جے چابتاے ٹپامخلارزق دیاے۔ یہ لوگ ڈیو ی زن دگی
یس من ہیں ء ھا لاکمہ ڈیاکی ز دی آخرت کے متقا ٹل میس ابیک ماع تیل کے سوا بھی شی خ۳
سورڈائرعد حاشیہ نمبر: 35 ھ
]نی نہ دٹیاٹس ان دونو کروی بساں ہو سے اورنہ آخرت ٹیل ا نکاا نام مکساں۔
سورڈائرعد حاشیہ نمبر: 36 ھ
یجن خی ای گی ہوئی اس معلیم اور دا کے رسو نکی اس دعو کو جو لوک قد لکیاکرتے ہیں دہ خفل کے
اندھے یں بللہ ہو شگوشش رح کے ببرار مخز لوگ ہی ہوتے ہیں ۔ اور پھر دٹیاشیل ال نکی یرت و
کردا رکیاوورنک اور آخرت ٹیل ا نکادہاشجام ہو اے جو بعل دکی ول میس بیان ہو اے۔
سورڈالرعد حاشبتمبر: 37ھ
اس سے مراددہازٹی ہد ہے جو ال تالی نے ابنقد ا آف )یش میس قمام انسمانوں سے لیا تھاکنہ وہ صرف اسی
گی بندگ یکر گے( فش رج کے لے ملاحظہ ہو سورد اعرافء حا لغ م۱۳۴ د۱۳۵)- بے ۶ہر ہر انان ے
اکا ےء ہر ای ککی فطرت میس مض رہہ اور امی وفت پیشنہ ہو جا تا ہے ج بآ دمی الد تھا یکی لبق سے
دجود یش آاسے اور ربوبیت سے پرورشل اتا ہے۔ خحداکے رزق سے پلناء ا کی بد ای ہو کی چچیزوں سے
کم لینااور ا سکی شی ہو گی وت ںکو استعا لک نا آپ سے آپ انسا نکو مد اکے ساتھ ایک بشاق بن دگی یش
پاندھ دیتاے 7 0 ئ0 علال 1وی خی ںکر سعکتاء الا کہ نادان بھی
احمازا ال ےکوی لفخزش ہو جاۓ-_
سورڈائرعد حاشیہ نمبر: 38 ھ
ین وہ تمام موا ش تی اور تی روابا ج نکی در سق پر انا نکی اج گی ز ن دک یکی صلا و فلاح مخحصرے_
سورڈالرعد حاشیہ نمبر: 39ھ
یف اپقی خو ا ہشا تکو قابو یس رت نہیں ء اپنے جذ بات اود میلا نا تکو حدددکاپابند بناتے ڈیہ خد کی ناف رما
یس مجن جن فامدروں اور رتو ںکالا یی نظ رآ ماے انیس وہک ہک یسل نیس جات ء اور خد ای فرمانی رداری
مجن جن نتصدانات اور تکلیفو کا اندیشہ ہو تاے انیس پر داش تک نے جات ہیں اس اط سے موممن
کی بای زندگی در تقیقت عب ر یز ن کی ےکی کہ دورضاے ال یکا اید پر اور آخرت کے پائ ار ضا کی
ق ٹپ ااس دنیائیش ضہیالٹس ےکام لیتتاے او رگناہکی جانب ٹٹس کے پ رمیلا نکاصب ر کے سات متقابل کر تا
ے۔
سورۃالرعد خاشیہ نمبر: 40ھ
یی وہ بد ی کے متا لے میں بدکی یی بللہ مُ یکزتے ہیں۔ دو ش رکا متقابلہ شر سے نی بللہ خیر بی س ےکمرتے
ہیں ۔کوٹی ان پر خو ا ہکتنا بی تل مکرےےء وہ جواب میس فم نی بللہ انصاف ہکرت ہیں ۔کوکی ان کے
غلا فکتنا بی وٹ :اض تح ےن یکین سے خ انی می دراو ٹ کے
جواب میس دیانت بی سےکام لیے ہیں۔ ای صعنی بس سے وہ ریت جس میں تضور صلی ادڈد علیہ وصسلم نے
فرمایاے :
لذ تگونر ١ة کر ٹوت ان اخسی التاس استار ان تا طقتا۔ و گنی
وطنوا انفسکم ان احسن الدمأس ان تحسنواو ان اسأوّا فلا تظلموا۔
مم نے طرز عم لکولوگوں کے ط رز عم لکامائع :ناک نہ رکھو۔ ہیہکہناخلط ےکہ اگ لوگ بچھلاگ یکر میں کے و
هم اث یکر کے اور لوگ ش مکرمیں کے ے ہم بھی ظل مک ریس گے۔ تم اپنے نف کو ایک تاعرےکابابند
نا اگ ر لوگ بک یکرمی وم جک یکرو۔ اور اکر لوگ حم سے پر سلوک یکر میں قے خر لن کرو “
اس معمی میں سے وہ حریث جس میں حضور صلی اللد علیہ وسلم نے فرمایاککہ میرے رب نے بے نو پان ںکا
تم دیاہے۔ اوران یل سے چار بات آپ صلی الہ علیہ وس نے فرائی کہ می خو اہی سے خوش ہوں
مانارائص ہر حالت میں انصا فک با ٹکہوی: جو مبراحن مارے میں ۶دا آرین: 7 کے 9
کے مو ا کو عطاکروںء اور جو مھ پر مکرے میں ا ںکو معا کر دوں ۔ اور ال مج یل ے وہ
حریتٹ جس میں حضور صلی الند علیہ وسلم نے فرمایاکہ "لا جخن صن تا نت "” جو تچھ سے خ یا دکرے فو
ازے حتف کی من می سے رت رض لت فو لن تن تین ضرے اھ
معاطل ہکرنے بی حد اس کی ڈر تا ان نکی سزادی ےکی اہ رین صورت بہ ےک نے اس کے سماتھ خمد ا سے
ڈرتے ہہوۓ معاط گر“
سورڈالرعد حاشی تمبر: 41ھ
اس کا مطلب صرف بی کی ےکلہ امہ ہر طرف سے اکم ا نکو سلا میں کے بلللہ یہ ھی ےکلہ
لامکمہ ا نکو اس با تکی خ ری دی ےکلہ اب تم ایی عجکہ یک مو جہاں تمہارے لے سلامتی ہی
سلاشتی ہے۔ اب یہاں ئم ہ رآفت ےہ ب ریف سے ہر مشنقت سے اور ہر مخطرے سے اور اندییشے سے
فو یا ہو( زی رتفصبیل کے لیے ماحظہ ہوسورویجر حاششیہ مہم ۲۹)۔
سورڈالرعد خاشیہ نمبر: 42ھ
ال آزی تکا پیل منظریہ ےک عام چہل اکی طر حکفارکہ بھی عقیدردو صل کے حسن وی کو یھ کے بھاتے
امیبرىی اور خی کے لحاظط سے انسانو لک قدر و قب تکا ساب لگاتے تے۔ ال نکاگمان یہ تماکمہ سے دنیاٹش
خوب سامان میٹ مل ر پاے وہ نخد اکا موب ے خو اوہ وکییسائ یگمراددب رکا ہو۔ اور ج تک عال سے دہ تد اکا
مخضوب ہے خو اد ہکییساہی غیک ہو اىی جفیاد پر دہ قرپیشی کے مردارو ںکونچی صی الد علیہ و سم کے خریب
ساخیوں پر فضیلت دینے تے او رکتے ےکلہ دہ لوہ ال رکس کے ساتھھ سے۔ اس پیر متنبہ فرمایا جار ہاے
کہ رز قک یکیو ٹیش کا معا لہ انل کے ایک دوسرے بی مقانون سے کعتل رکتا سے جس میں بے شمار دوسری
ممملھتوں کے لھابط ےک یکوزیادددیاجا سے او رس یک مم ب ہکوئی معیار غڑیں سے نجس کے لھاطط سے انساوں
جے اق ینوی صن ما فی کیا نے افمافو ن کا ور ما نآرق حر بل ٣ل شادایرا نل
سح فلز کی ا ات کیو نے اکس ئے
عحدہ اوصا کا اکتتما بکیا اد رسس نے برے اوصا فکا ۔ گر نادان لوگ اس کے ہجاۓ ىہ وین ہی کہ
تح سکوازولات ماوع ی او رع سک وگ٠
٣۶وکر
2٘٠ طو۔
و یَقُوْلَ الَدِیْنَکَفہُذا نول أنْرل مَلَيْه ايَة دِن رَبه 2 2۸
الَيْه دن تاب اَلَزيِنَ امَنُوا ة تطْمَينٌ كُذُوبِقم بِکر اللہ الا بِنکراللہ تطْتَينٌ
قب 2 اَلَزِيَْ امََنوا و عَیلوا الضلإٰتِ موی لد حَُنْ غ ماب رق كَذْيِكَ
22 و"
يَكفُوْنَ بالحْنِنِ قُل مُوَدَيؿلالكَالا مو عَلَمْدِ تَوَکَلت وَلَمْد مَمَاب دک و لَوْآنٌ
کے سے -9ەً 2 ٠ :-
راتا یرت بد اتال اذ فُطِْعَتَ بد الاَذضآم کلم به الْمویٴ 0ب رٹ"
۔
۲ ت
قَنَميَاِي الَذِيْنَ اصَنوا ان لَوََمَآ الله لَهَدی التَاش جَيِيْکَاٴوَلَايَزال الَزيْنَتنُو
کو ہے تقو کر ےڈ سو وڈ کا ئیاے ےو کی ہو لے کے فاقے لک و رہ
تصیْبُغْ بمَا صضِتَعوا قَارِعَة ا قَرِیْبًا ىِن دَارِىْ حَقی يیَأق وَعْد الله ان ادلة لا
٣ رکوء
یلوگ جنہوںے ولارسالتہ جک کوماٹے سے اکا رک دا ے کے ہیں ” اس تسپ انس کے رٹ کی
طرف ےکوی نال یکیوں نہ أترئی 2گ“ ۔کبوہ اللد سے چابتا ےگمراہکر دیتا سے اور دہ اتی طرف
آن کاراستہ أ یکو دکھا جاے جو ا سکی طرف زجو حکرے۔ _ھھا سے ہی لوگ ہیں دہ جنپوں نے ل1س
بی کی دعو کو مان لیے اور ان کے دلو ںکو انل دی بیاد سے اعضییزاان نصیب ہو جاے خر دار رہو !الد
گی بیادجی دہز جس سے دلو ںکواعھیدنان نصیب ہو اکر ما ہے پھر جن لوگوں نے دعوت ف نکومانا اور
نیک مل کے وو خوش نصیب ہیں اور اح ک٤ لیے اسچھاا ام ہے۔
اے مک سی شمان سے عم نت مکور ول بناکربیہیا بے اہ ایک اڑبی قوم میں جس سے پیل ببہ تی تو میس
گزر پچگی ہیںہ تاکہ تم ان لوگو ںکو وہ پام خناۃج ہم نے تز نز لکیا ہے ء لاس عال مو لک مہ اپنے خہایت
ہربان خد اس ےکافربنے ہو ۓ ہہیں۔ ان س ےکپ دکہ وی می ارت 6ے اس کے سو اکوکی معبو میں٠ أسی
پ شی نے پھروس کیا اود دی بیس عبادماوکی ہے۔
او رکیا ہو جاتا اگ کوک ایساق رآن أتار دیاجانتاٹخس کے زور سے پہاڑ ےہ گت ء از ان شی ہو ای یا خر دے
قبروں ے لکل ہو لے گت ؟ ورس طر نکی نشاہاں درکھا یھ مشکل نویس ہے بکلہ مار اتا ہی
ال کے ہاتجھ مس سے۔ ےھچ رکیاائل ایمان پا جھ یج کنا رکی طلب کے جو اب میں کسی نشالی کے ظ ہُو رکی
آس لا ٹیشھے ہیں اور دہ یہ جا نکر ہپ ماس نیس ہو گ کہ اکم الڈد اتا فوسمارے انسمانو ںکو ہد ایت دے
دتا؟ لن لوگوں نے خی اکے سات گف رکا رویے اخقیا رک رکھا سے لن پر ان ک ےک رگوو کی وجرۓکوئی
نہکوگی آفت آکی حیار ہی ےءیاان کےگھ کے تقری بکہیں نازل ہوئی ے۔ یہ سلسلہ چنا ےگا بیہا تک
کہ ال کاو عدہ آن و راہو۔ یقیباً الد اپنے وعمروں کے غلاف ورزی می ںکرت۔ جم
سورۃالرعد خاشیہ نمبر: 43ھ
اس سے پیل آیت کے ٹیل اس سوا لکاج جو اب دیاجاچچکاے اسے یی نظ ررکھاجائے۔ اب دوبارہالن کے
سی اخعترا کو رج ار ے ظھرے سے ال لکاجو اب دیاجارہاے_
سورڈالرعد خاشیہ نمبر: 44 ھ
نی ج ا کی طرف خودرجوں بی کرجا اور اس سے ر گر دالی اخختیا رک ما سے اسے زبرد سی راہ رات
رکھان ےکاطبیقہ ال کے ہاں رای نہیں میگ ہی شی سکواٹچی راسنتوں میں پیک ہکو توف درے دیتا سے
جن میں دو خود گنا چاہتا ہے وہی سمارے اسپاب گی رایت طلب انسماان کے لے سبب بد اریت بن
ڈیںء ایک عفلالات طلب انسان کے لیے سب فلاات بنا "لیا ہیں۔ تع روشن بھی اس کے ساس نی
ہے ذراستہ دکھانے کے ہیا ا سکی میں خر وب یکر ن ےکم ہبی ہے۔ بجی مطلب سے اواپد ےی
سکوگ راءکرن ےکر
نقالٰی کے مطال ےکا یہ جو اب اق بلاخت میں ہے نظیرسے۔وہ کے ےک ہکو کی نشالی دکھا نو جہیں تہاری
صد ام تکامنین ےجو اب بی سک اگ یاکہ نادانو! یں راو راست ہلل ےکا صل سبب نشائیو ں کا فقد ان
یں ے بللہ تہاری اتی ہدایت گل یکا فان ے۔ نشانیاں نہر طرف بے عدو ماب گٹیی ہوک ہیں ہمگر
ان بش سےکوٹی بھی تخمہارے لے نشان راہ ٹیس فی کی وکلہ تم خد اکے رات پر جانے کے خاش منعد ھی
ٹیس ہو اب اگ رکوٹی اور نشا یآ و وہ تہارے لے سے مید ہو سکتی سے ۴ تم شکای تکرتے ہوک ہکوکی
نقانی نی دکھائیگئی ۔گر جو مد اکی راہ کے طالب ہیں ء انی نشانیاں نظ رآربی ہیں اور دہ أ نہیں دی دحل کر
راوراست یارے ہیں-
سورڈائرعد حاشیہ نمبر: 45 ھ
نکی اڑسی نغالی کے اخ رج سکا مہ لوگ مطال کرت ہیں۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 46ھ
شی نین کے مت مو ہو :ان نکر نات اد نات اوخ ین مرو نک کا
ش یک بنارے ہیں ء اور ا سکی لین کے شک پے دوسرو ںکو اداکرر سے ہہیں۔
سورڈالرعد حخاشیہ ٹپمبر: 47ھ
اس آبی تکو جن کے لیے بہ بات یی لظردرہنی ضرورکی ےکلہ اس ٹیش خطا ب کغار سے میں بللہ
ملمانوں سے ے۔ مسلمان ج بپکفا رکی طرف سے پار باز نٹا یکا مطالبہ لے تے فان کے دلوں میں بے
نی پیدراہونی شیک کاشش ان لوگو ںک وکوئی نشائی درکھادکی لاگ یں سے بہ لوگ مال ہو جاتے۔ بچھ رجب
وع سو سکرتے تھےککہ اس طر حک کی نشالی کے نہ ان ےکی وجز ےکا رکو نی صلی الد علیہ و صل مکی
رساات کے متتحلق لوگوں کے ولوں بیں شجات یلان ےکا موںح مل ربا تو ا نکی میہ بے یی اود تھی
ناد اتی :ان یز فضمکیاون ے فر ایا از از ےک اگ را نکی می کے ما ایی وی
نثانیاں بیابیک دکھادی جاتیں ن وکیا وانٹی تم بہ مت ہ کہ یہ لوگ ایمان نے آتے ب؟ کیا سکیس ان سے یہ
خوش شممائی ہ ےکہ بہ قبول جن کے لے پالئل تیار ٹیٹھے ہیںہ صرف ایک نثای کے ظپو رک یکسرہے؟ مجن
لوگو ںکو ق رآ نکی نعلیم میں مرکا نات کے مار میں, نی صلی الد علیہ وم کی پاکیٹزہز گی میں ء صحاب کرام
کے انقلاب حیات میں لور جن نظرنہآاکیاتم یلت 0 کہ دہ پہاڑوں کے لن اور زین کے ٹن اور مر دوں
کے خروں ے لی ےن ایر شی بالیس کے۔
سورۃڈالرعد خاشیہ نمبر: 48ھ
نی ننانیوں کے نہ دکھان ےکی اصمل وجہ یہ یں ےکلہ الد تھالی ان کے دکھانے پیر تقادر میں ہے بل
امک وج بہ س ےکہ ان طربیقوں سےکام دنا ای کی مصعلجت کے غلاف ہے ۔ اس لی کہ اصصل مقصور تو
رایت سے ت کہ ایک ہ یکی شبو کو منوالنا اور ہدابیت اس کے خی ہتکن خی ںکہلوگو ںکی کہ و صیررتں
کی اصلاہو_
سورڈالرعد خاشیہ نمبر: 49ھ
تی اکر بججہ وہ کے بغی رشح ہے خر شعوری ابیمان مطلوب ہوجو اس کے لے نشانیاں دکھانے کے
مکل فک یکیاحاجت تیب کام فو اس ط رح بھی ہو سنا کہ ایند سمارے انساو ںکو مو صن بی پیر اکر دیتا۔
رکوع۵
ا 2 ِن قَبْيْكَ فَاَحَلَيْتُ لِذَدِیِن کَفَرْذا قُو اعدم غَکَیْف فَانَ
جِقاب رج أَفَنْهُوَقار پل قُل تس بِتَا بث ەَجَعَلوْاللمهْرقاءٴ قُل موق
ام تْتَبْقُوْتَدبمَالَا يَعْلمُ ف الاَزضِ اَم بظَامِرىِنَ فان َل زین نر ین را کر
تھے ومن يٌطیلِ الله فا لد من مَا دع لَهُْعَذَابٌ ف اَیوة الدُنیا
سم سیر پسویہس
بی مِن ھا الاَنْز رز ھا داز وه طِلی هِلّكَ غُقَتی الَذِیِنَ اثَمَوْ .سس
بب النَاد (ي ة الِّيَْ اتَيدغٌ انب یَفَخُوْ بَا اُنْرِلَ اِلَيْكَ ەَ مِنَ
الاخوَاب مَن يْتَْيِژبَعَضِد قُن نما أیزْث آن امت الد ٥ل مر ےه اليْدَاَمْمُوا3
اتیوماب 0 دَتَذيفَ آَنَرلْنهُ عکّما عَوئًاٴ وَلَينِ١اتَبَعْتَ ٌبَعَتَ أَحُوَا ٥ش بَعْدَمَا م2ك من
وے لا بے 7 ےت 2
العلمِ مَالكمِنالِمِن وو لا وت (ک)
رکوع ۵
تم سے پیل بھی برت سے رمولو ںکا فراق اُڑایاجا کا سے ءگمر میں نے پیش مھری ننکوڑعیل دی اور آخ کر
ا نک پک لیا مجر وکہ می ربی سم زاکیصی حخت تھی۔
رکیاوہ جو ایک ایک شف سک یمائی پر نظ ررکتاے 8لاس کے مقا لے جس مہ جسا تم کی جاردی
سس اکپ لوگوں نے اس کے پٹ ش یک مھھہرار کے ہیں؟ اے نیک ان سےکپودء گر وا شچی وہ دا کے
اپنے بناۓ ہو ش رکیک ہیں فو ہہ ذرا ان کے نام ا دکمہ و ہکون ہیں کیا تم اڈ دکو ایک نا با تک خجر دے
رے ہو صے ود اپقی زین میس میں جاہتا؟ یاتم لوگ بس او کسی جو منہ میں آمما ےکہہ ڈا لے ہو؟ ھھ جتییقت
بی سےکہ جن لوگوں نے دعوت ت کو مان سے اکا رکنیا سے الع کے ے ا نکی متقاریاں نو شا ہنادی
گئی ہیں اور دہ راوراست سے روک دنے گئ ہی ںاہ پھر ہج کو ا گھم رای بیس یجنک دے ا سکوگی راہ
دکھانے والا یں ے۔ الےے لوگوں کے لیے + تیاکی ز ن دگی بی میں لے ٤ اور آخر تکاعذ ا ب اس ے
بھی زیادہ جخت سے ۔کو کی ایا یں جو ایس خحداسے بیانے والا ہو۔ خد اترس انسانوں کے لیے جس جش تکا
دعد ہک یاگیاے ا لکیاشحان یہ س ےک انل کے نے شہریں ابس دی یں ء اس کے کیل دای ہیں اور ان سکاسایہ
لازوال۔ یہ اضجام سے صفی لوگو ںکیا۔ اور ملک مین ع کا اضجام بی ےکم الن کے لیے دوز نکی آئک ے۔
اے یا جن لوگو ںکو جم نے پیل ناب دی تھی وہ لا سکاب سے جو ہم نے تم ناز لک سے ء خوش ہیں
اور نل فگمروہوں میں بیجھ لوگ ای بھی ہیں جھ ا سکی مض پاتو ںکو کی ماتے۔ تم صا فکہہ دہ
کہ ”جھے و صرف الل کی بن یکا عم دیاگیاسے اور اس سے تک اکا ےک ہکس یکو اس کے ساتھ ش یک
کھہراوں ۔لبذر ائیس اک یکی طرف دعوت دیتاہوں اور ام یکی طرف می رارجوے 58ے “رٹ ے
ساتھ جم نے مہ فرما ع بی تم پد ناز لکیاہے۔ اب اگر تم نے اس مم کے باوج دجو تمہارے پا سآ چکا سے
لوگو ںکی خ اہشا تکی پروی یکی فو ال کے متا بیس ن ہکوکی تار احائی دم دگگار سے اور ش ہکوٹی ا کی پکڑ
سے خمکوہیا سکتما ہے۔ ط۵
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 50ھ
یت رک توالت نراف ےو کی ارت کی کی نی کی
ہوٹی ےنہ 800
سورڈالرعد حاشی تمبر: 51ھ
تماد قیل ب کہ اس کے سس اور بد متقائل جو یز کے جارے ہیںء ا کی ذات اور صفات اور تقو یں اس
کی حخلو قکو شی فکیا جار راے ١ اود ا لکی نحد ای ینا ٥کر لوگ یہ ججھدر ہے ڈی کہ پم جو یھ ای نکر بس
بحم س کو فی باز یھ کر نے والا تجییں۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 52ھ
ین اس کے ش یک جو تم نے تو نکر ر کے ہیں ان کے محالے میں ین ہی صصو ہیں من ہیں :
ایک ب کہ نخہارے پا ںکوکی مستفند اطلا کیہ کہ الد نے فلاں فلا ہستبو لکو اق صفاتء یا اختیارات ء
ما توق بیں ش ریک قرار دیاے۔ اگ یہ صورت سے وذ داب ا ہکم شی مبھی با کیہ و ہکوا نکون اصحاب ہیں
اوران کے ش ریک خد امق رر ہیے جا ےکی اطلاع پ را کوککس ذد یہ سے گی سے۔
دوسری کن صورت بہ ےکہ ال دکوخود خر نیس ےکہ زین میس پا رات اس کے شش رکیک بن گے
یں اور اب آپ ا کو يہ اطلاع دینے جے ہیں۔ اکم یہ بات سے وصفا لی کے ساتتھ ابق اس لو ز یش نک اقرار
کرو۔ پھر ہم بھی دہ یٹس کےسسہ دنیائیس کت اپیے اعم لک ہیں جو تمہارے اس سراص راقو مرن ککی
پچیردکی یہ قائم رت ہیں۔
لیکن اکم یہ دووں اس نیس ہیں تچ رتیسر یہی صورت باقی رہ ای ہے اورددیہ ےک تم فی سی سند اور
فی رکسی دلیل کے بیو ٹھی جج سک چاہتے ہو مد تار شتہ دار شھی را لیت ہو ہج سکوچاتے ہو داتااور فریادر سکہہ
وین ہوہ اور جس کے ملق جات ہو دع یکر دی ہ وک فلاں علاتے کے سلطان فلال صاحب ڑل اور
فلا لکام ضر تکی تاب داد ادسے پر آتے ہیں۔
سورڈالرعد حاشیہ نمبر: 53ھ
اس شش ر ککو مار یسک کی ایک وجہ بے ےگ دراصل مجن اجرام غلکی اف ش شھنوں ما اروا با ءزرگ انمانوں
کو خد ای صفات و اخنیارا تکاحائل قرار دماگمیاےء اور جج نکو مد کے مخصوص حقوق میس ش یک بنالیاگیا
سےء اع یں سےمصسیانے بھی بھی نہ اع صفات و الال کا د عو یکیاء نہ ان مو یکا مطالب ہگیاء اور نہ
لوگو ںکو ىہ تعلیعم د کہ تم ہار ےآ گے پر کے مراسم ادا وٹھم تہارے کام بنایاگ/ریسں گے ہہ تو
چالاک انسمانو ںکاکام ےکلہ اغہوں نے عوام پر ابق خد اہ یکاسکہ جمانے کے لیے اور ا نک یکماتیوں میں حصہ
بٹانے کے لیے پھ بناوٹی مد اتصذیف کیےء لوگو ںکو ا نکامضنقد بنایا اور اپنے آ پک وین سی ور پر ال کا
ما نرہ گھب اکر اپناالوسیدجاکر ناش رو غحکر دی
دو گی وہ شش ری ککوکرسۓ تج رک رٹکیس ےک دداصل یہ ایک فری ب لف سے اود ایک ور درواڈہ
سے جس کے ذر بے سے انسان دنا پر سی کے یہ اخلائی بنرشوں سے نے کے لیے اور غیر ذمہ دارانہ
زور کر نے کے لیے راہ فرار اتا ے۔
تیسری و جج سکی بنا پر مش کین کے طر زع لکوکر سے تی رکیاکیاہ ےآ کے آلی ہے۔
٦
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 54ھ
ىہ انسالنی فطرت ےک جب انسالن ایک ج کے متا لے میں دوصرىی کو اخقیا کر مجاے نو و اج لف سکو
مفص کر نے کے لیے اور لوگو ںکو ابق راست دو یکائشٹین دلا نے کے لیے ابی اخما دکرد چم کوہ رط رت
سے امت لا یکر کے خاب تکرن ےک یکو شک جاسے اور ابق د دک دہ یز کے خلاف ہ رر حکی باتں
چھا می شرو عغکر دبقاے ۔ ای بنایر فرمایاگمیا ےک جب اغہوں نے دعوت کو مات سے ائٛکا کر دیا نو
قانون فطرت کے مطابقی ان کے لیے ا نک یگم رای ء اود ا مم رای پر الم ربفئے کے لیے ا نکی مکی
خوشنما بنادیی راغ فطری فانون کے مطا ٹل راو راست پر نے سے روک دبے گے
سور ڈالرعد حاشی ٹتمبر: 55ھ
بی ایک خاصم با تکاجواب ے جو اس وقت لاتتال کی طرف س ےکی جارہی عھی۔ وہ کے ےکلہ اگ
صاحب وا تی وی أعلیم ن ےکرک ۓ ہیں جھ یل انھی ا نے رت جلی اہ ا نکیاد کی سے آخ کی بات ے
کہ بیبودو نصاریی ء جو لے انییامر کے پچبرو ہیں ء آ کے بڑ کر ا نک اختتبال یس کر .من پر فرمایا جار ہاے
اع یل ے ضس لو .2 اس پر خوش ہیں اور نس ناراضصء مر ا ئئی صلی اید علیہ و سم ءخوا ہکوکی خوش
ہو باناراش تم صا فکہہ دوکہ مھ فو خداکی طرف سے بی لعلیم دئ یگئی ہے اور میں بب رحالی ا کی پروی
کرو ں گا_
٦ۃوکر
0 گے کو 7ھ و وس کو 6 اوجھب رق کے ہے کے
و لقل ازملتا رُمُلا مِنْ قبَلِك و جعلنا لم ازواجا و ذرِیة وماکانلرسو ان یَاق
ای کے ےہ وس ور : 7 ے۔ ٣م ود و نچچ٭_ ی۔)ٴ2ھھ
بِايَة الا بِاذْن الله یکل اَجَل فِمَابُٔ (5) یَنَخُوا الله ما یَقَاء و يْنِْت " و تد امٌ
پت 22 ک ۲ ے ط
٤ جحَکح_ےبرے ےغ۶ لا سے کے 7 چ و کی ا ت20 7 ص کل ۔ًٌَ 5 ۔
التب رح و ان مَّا تُرِيَنَّكَ بَعَضْ الْذِیْ تَعِدْشٌ ا تَمَوَفْيَنَكَ فَإنْما عَلِيْكَ الْبَلمُ 2
ہے -
مَلَمْنَا ا ماب آوَ نم َڑفاآتا تق الازض تَنْقُمُهَا مِنْ اطْرافِهَاٴ وَاللٰهُجََکُمْلَ
مُقَقِبَ لحيهٴ د مو تریغ الما 2ھ دَ قَن مگر الَْرین بن قبی قیله الکو
جَييْمًاٴ وَعََۂ تا تيب فَُّ تسد مَمَعْلَم الف یمن عُقی الدّار رد یَفولُ
الَزيْن گَنَہٰذا لمت مُْمَلا ٴ کُل گی باللہ مَھيڈا ید نینگ رد من جِئدہ مِلْم
٦ رکوع
قم سے پیل بھی ہم بہت سے ر ول مغ بے ہیں اور ا نکو جھم نے مدکی یں الا تی بنایا تھا 58ڈاورسی
رو لکی بھی ىہ طاقت شش کہ اید کے اون کے بی کوک نشای خود لا دکھاءتا۔ ہر ور کے لیے ایک
تاب ے۔ اللد جو بٹھ چابتاے مٹاد ؾتا سے اور شٹس چ کو چابتا سے تام رکنناے ء ام اکتتاب سی کے پا
58
سے۔
اور اے ئیء ٹس رے اصجا مکی مکی ہم ون لوگو ںکو دے ر سے ہیں أ کک وگی حصہ خواو ہم تہارے
سے گی دکعادری مااس کے ور میں کن سے پیل ہھم ہیں امٹھالیسہ بہر حا تمہارلکام صعرف پیم باہھا
دیناے اور ساب لیناہماراکام ہے۔ کیا رہ لوگ وسیکھے نیس ہی کہ چم اس رز ان پر گے آنر ہے ہیں اور
ان لکا دائزرہ ہر طرف سے تہ کر تے لے آتے ہیں ؟ ورڈ عکوم کر رپا ے ؟کو کی اس کے فیصلوں پر
نخان یکرنے والا غییں ےء اور ساب لیت ہہ یں ا اون و نے ین دو کی
بی بڑی چالیس پیل یی ہیں 1 ہم اصل فیصل ہگن چال نو رکا رکاج کے ہاتھ جس ہے۔ دہ جانا
ہ ےک ہکو نکیا کمائ یکر رپاہے+ او رعنقر یب ہہ مکربن ح دیس ک ےکم اما مم کا می ہو تا ہے۔
یہ ری کک ہی ںکہ تم خداکے کییجے ہوۓ نہیں ہو ۔کہوہ“ میرے اور تمہارے در میاان ال دک یگو ایکاٹ
ے اورپ رپ راس شف شک یکو ابی ج وکیا ب 1سا یکاعلم رکتاے۔ “ئ۷
سورڈالرعد حاشی تمبر: 56ھ
یہ لیک اور اعتراخ شکاجو اب سے جو نمی صلی الد علیہ و سم پ ہکیاجاتاتھا۔ وہ کے ےکلہ یہ ابچھا نی سے جو یو ی
ارچ رکتا ہے بھلا مرو ںکوبھی خواہشات فضمالی سےکوگی لق ہو سلتا ے۔
سور ڈالرعد حاشب تمبر: 57ھ
بھی ایک اعزائ ضکاجو اب ہے۔ مخالشن کے ت ےک موک علیہ السلام ید ببینا اور خصالائۓ تے۔ سک
اند عو ںکوپینااو رکوڑھیو ںکو تندرس کر دینے تھے صا علیہ السلام نے او یکانشان دوکھایاتھا۔ ت مکیا
نشی ل ےک آرۓ ہو ؟ ا سکاج اب ىہ دیاگھیا تک جس نی نے جو بھی دکھاٹی سے اپنے اخختیار اور ایق
طاقت سے میں دکھالی ہے الڈدنے جس وفت جس کے ذر یج سے جو اھ اہ کر نا مناسب س سمچھادہ ظبور
میس آیا۔ اب اگر او کی مصسلحت ہوکی نوج بن وۃ بے گا دکھواۓ گا۔ مغ رخو کسی خداکی ایا رکا مد گی
یں ےک ہ تم اس سے نشائی دکھان ےکا مطال کرت ہ۔
سورڈالرعد حاشی تمبر: 568ھ
بی بھی مخالششن کے ایک اعتراخ کاج اب ہے۔ وہ کت جھےکہ پیل کی ہوک یکنائیں جب موجود میں فو اس
یکا بک یکیاضرورت شی ؟ تم کے ہ کہ ان ٹیل تحریف ہہ وگئی سے اب دہ ملسو ہیں اور الس خ کاب
کی رو یکا عم دماکیاے ۔گر دا یمکناب ٹیں تی فکسے ہو سی سے ؟ خدانے ا سکیا فا تکیوں ش کی
؟ او رکوئی دا یزاب مفسو خکیسے ہوسکتی ہے ؟ ت کے ب کہ میہ ایی خداک تاب ہے جس نے فذ دراو ا کیل
از لکی یں ۔ گرب کیا بات ےکہ تمہاراطربیقہ فور کے ۰ض ایام کے خلاف سے؟ ملا مض زی
جن یں را وانے حر ام سکیتے ہیں تم انیس علال مجن ھہک ہکھاتے ہو ان اعتراضات کے جو ابات بی ری
سوروں میں زیاد نیل کے ساتھ د لے گے ہیں۔ بیہاں ال نکا صصرف ایک مقر جا جو اب د ےک رمچھوڑ
دیاگاے۔
”ا ائک ےب“ کے مع ہیں اص کاب “ ین و وضع وس رچشمہ جس سے قمام شش سان لگی ہیں۔
سور ڈالرعدذ حاشی تمبر: 59ھ
نطلبي رے کہ تم اس کر میں نہ پڑ دکہ جن لوگوں نے تہاری اس دعوت تق کو تھٹلا داے ا نکا جا مکیا
ہو اے او رکب دہ نمور یل آہاہے۔ تہارے سپردجوکا مک یاگمیاسے اسے بیو ری جس وکی کے ساتقع سے مل
جا اور فیصلہ م پر سچوڑدو۔ یہاں بظاہر خطاب می صلی الد علیہ وم سے سے گر ور صمل بات ان مالین
کوسنالی مقصودے جو جن کے اند از یں بار ہار ضمور صلی الد علیہ و لم سے سکتے جےسلہ ہعا کی جس شیامت
کی و عمکمیاں تمہ میں دیاکرتے ہو آخر وہ آکیوں نیس جائی۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 60ھ
یج کیا تہارے فلا نکو نظ نمی ںآ ر ہا ےکہ اسسلا مکااٹڑ صرز ین عرب کےگوے ےگوت میں پھیاتا جار ہا
ہے اور ارول رف سے الن پر علقہ نگ ہو تا چلا جا مت ےک بی ا نکی شمامت کے آخار نیس ہیں ن کی ہیں ؟
اللہ تھا یکا ىہ فان اکہ ” یم اس صرزنشن پر ے آر ہے ہیں “ ایک خہایت اطیف انداز بیان ہے ۔کی کہ
خر ےآ ال کی رف سے ہوثی سے اور اللہ اس کے یی يکرنے والوں کے سا ہو تا سے ء اس لی می
رز ین بیس اس دعوت کے پیل ہکو الد تھی ول تیر فرماا ےکہ چم خوداس صرز مین میس بڑ صحے جلے
آرےہں۔
سورڈالئرعد حاشیہ نمبر: 61ھ
یی بج ب کوک خھ بات نیس ےکم ح کی آوا زکو دبانے کے لیے مجھوٹ اور فریب اور لم کے جفعیار
اتال سے جارے ہیں۔ چپچھلی تار ٹس بار بای بھی چیالوں سے دعوت ف کو قلست دی ےک یکو شی ںکی
اہی ہیں۔
سور ڈالرعد حاشی تمبر: 62ھ
نی ہروو شش جو واقتی آسا یک ابوں کے علم سے بردور ہے اس با تک شہادت در ےگاکہ جب یس یی
گررہاہہوں ددوتی لیے جو ہیل انھیاءل ےک ہآ تے۔